سورة محمد - آیت 35

فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پس تم سستی نہ کرو اور صلح کی درخواست نہ کرو، تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ تمہارے اعمال ہرگز کم نہیں کرے گا

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣٥۔ ١ مطلب یہ ہے کہ جب تم تعداد اور قوت وطاقت کے اعتبار سے دشمن پر غالب اور فائق تر ہو تو ایسی صورت میں کفار کے ساتھ صلح اور کمزوری کا مظاہرہ مت کرو بلکہ کفر پر ایسی کاری ضرب لگاؤ کہ اللہ کا دین سر بلند ہوجائے غالب و برتر ہوتے ہوئے کفر کے ساتھ مصالحت کا مطلب کفر کے اثر ونفوذ کے بڑھانے میں مدد دینا ہے یہ ایک بڑا جرم ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کافروں کے ساتھ صلح کرنے کی اجازت نہیں ہے یہ اجازت یقینا ہے لیکن ہر وقت نہیں صرف اس وقت ہے جب مسلمان تعداد میں کم اور وسائل کے لحاظ سے فروتر ہوں ایسے حالات میں لڑائی کی بہ نسبت صلح میں زیادہ فائدہ ہے تاکہ مسلمان اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر بھرپور تیاری کرلیں جیسے خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار مکہ سے جنگ نہ کرنے کا دس سالہ معاہدہ کیا تھا۔ ٣٥۔ ٢ اس میں مسلمانوں کے لئے دشمن پر فتح و نصرت کی عظیم بشارت ہے۔ جس کے ساتھ اللہ ہو، اس کو کون شکست دے سکتا ہے۔ ٣٥۔ ٢ بلکہ وہ اس پر پورا اجر دے گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔