سورة محمد - آیت 18

فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سو وہ لوگ قیامت کے علاوہ کسی بات کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ ان پر اچانک آپڑے؟ اس کی نشانیاں تو آچکی ہیں۔ جب قیامت آئے گی تو ان کے لیے نصیحت قبول کرنے کا موقع نہیں ہو گا

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٨۔ ١ یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت بجائے خود قرب قیامت کی ایک علامت ہے جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا بعثت انا والساعۃ کھاتین۔ صحیح بخاری۔ میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کر کے واضح فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں اسی طرح قیامت میرے ذرا سا بعد ہے۔ ١٨۔ ٢ یعنی جب قیامت اچانک آ جائے گی تو کافر کس طرح نصیحت حاصل کرسکیں گے؟ مطلب ہے اس وقت اگر وہ توبہ کریں گے بھی تو مقبول نہیں ہوگی اس لئے اگر توبہ کرنی ہے تو یہی وقت ہے ورنہ وہ وقت بھی آ سکتا ہے کہ ان کی توبہ بھی غیر مفید ہوگی۔