سورة محمد - آیت 14

أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُم

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا جو شخص اپنے رب کی طرف سے ایک واضح ہدایت پر ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کے لیے اس کا برا عمل خوبصورت بنا دیا گیا ہے، اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ چکے ہیں

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٤، ١ برے کام سے مراد شرک اور معصیت ہیں، مطلب وہی ہے جو پہلے بھی متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ مومن و کافر، مشرک و موحد اور نیکوکار اور بدکار برابر نہیں ہو سکتے ایک کے لئے اللہ کے ہاں اجر و ثواب اور جنت کی نعمتیں ہیں، جب کہ دوسرے کے لئے جہنم کا ہولناک عذاب۔ اگلی آیت میں دونوں کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے اس جنت کی خوبیاں اور محاسن جس کا وعدہ متقین سے ہے۔