سورة الجاثية - آیت 9

وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہماری آیات میں سے کوئی بات اس کے علم میں آتی ہے تو وہ انہیں مذاق کرتا ہے۔ ایسے سب لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٩۔ ١ یعنی اول تو وہ قرآن کو غور سے سنتا ہی نہیں اور اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑجاتی ہے یا کوئی بات اس کے علم میں آجاتی ہے تو اسے مذاق کا موضوع بنا لیتا ہے۔ اپنی کم عقلی اور نافہمی کی وجہ سے یا کفر و معصیت پر اصرار و استکبار کی وجہ سے۔