سورة فصلت - آیت 39

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ۚ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۚ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اللہ کی نشانیوں میں سے اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین ویران ہوتی ہے پھر جونہی ہم اس پر بارش برساتے ہیں تو یکایک وہ پھول اٹھتی ہے اور ابھر جاتی ہے، بے شک جو اللہ مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے وہ مردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے، یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣٩۔ ١ خَاشِعَۃً کا مطلب، خشک اور قحط زدہ یعنی مردہ۔ ٣٩۔ ٢ یعنی انوارع و اقسام کے خوش ذائقہ پھل اور غلے پیدا کرتی ہے۔ ٣٩۔ ٣ مردہ زمین کو بارش کے ذریعے سے اس طرح زندہ کردینا اور روئیدگی کے قابل بنا دینا، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مردوں کو بھی یقینا زندہ کر دے گا۔