سورة فصلت - آیت 15

فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

قوم عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی استحقاق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ طاقت ور ؟ انہوں نے یہ نہ سوچا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے۔ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٥۔ ١ اس فقرے سے ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ عذاب روک لینے پر قادر ہیں کیونکہ وہ دراز قد اور نہایت زور آور تھے یہ انہوں نے اس وقت کہا جب ان کے پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کو انذار وتنبیہ کے لیے عذاب الہی سے ڈرایا۔ ١٥۔ ١ یعنی کیا وہ اللہ سے بھی زیادہ زور آور ہیں، جس نے انہیں پیدا کیا اور انہیں قوت و طاقت سے نوازا۔ کیا ان کے بنانے کے بعد اس کی اپنی قوت و طاقت ختم ہوگئی ہے؟ یہ استفہام استنکار اور توبیخ کے لیے ہے۔ ١٥۔ ٢ ان معجزات کا جو انبیاء کو ہم نے دیئے تھے یا ان دلائل کا جو پیغمبروں کے ساتھ نازل کیے تھے یا ان آیات تکوینیہ کا جو کائنات میں پھیلی اور بکھری ہوئی ہیں۔