سورة غافر - آیت 74

مِن دُونِ اللَّهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا بَل لَّمْ نَكُن نَّدْعُو مِن قَبْلُ شَيْئًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَافِرِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

وہ جن کو تم شریک بناتے تھے۔ وہ جواب دیں گے کہ وہ ہم سے کھوئے گئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو نہیں پکارتے تھے، اس طرح ” اللہ“ کافروں کا گمراہ ہونا ثابت کر دے گا

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٤۔ ١ کیا وہ آج تمہاری مدد کرسکتے ہیں؟ ٧٤۔ ٢ یعنی پتہ نہیں، کہاں چلے گئے ہیں، وہ ہماری مدد کیا کریں گے؟ ٧٤۔ ٣ اقرار کرنے کے بعد، پھر ان کی عبادت کا ہی انکار کردیں گے کیونکہ وہاں ان پر واضح ہوجائے گا کہ وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے رہے جو سن سکتی تھیں، نہ دیکھ سکتی تھیں اور نقصان پہنچا سکتی تھیں نہ نفع (فتح القدیر اور اس کا دوسرا معنی واضح ہے اور وہ یہ کہ وہ شرک کا سرے سے انکار ہی کریں گے۔ ٧٤۔ ٤ یعنی ان مکذبین ہی کی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کو بھی گمراہ کرنا ہے مطلب یہ ہے کہ مسلسل تکذیب اور کفر یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے انسانوں کے دل سیاہ اور زنگ آلود ہوجاتے ہیں اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے قبول حق کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں۔