سورة غافر - آیت 21

أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آئے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں کہ وہ ان سے زیادہ طاقت ور تھے اور ان سے زیادہ زبردست زمین میں نشانات چھوڑ گئے ہیں مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢١۔ ١ گزشنہ آیات میں احوال آخرت کا بیان تھا اب دنیا کے احوال سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ ذرا زمین میں چل پھر کر ان قوموں کا انجام دیکھیں جو ان سے پہلے اس جرم تکذیب میں ہلاک کی گئیں جس کا ارتکاب یہ کر رہے ہیں دراں حالیکہ گزشتہ قومیں قوت و آثار میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں لیکن جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو انہیں کوئی نہیں بجا سکا اسی طرح تم پر بھی عذاب آ سکتا ہے اور اگر آ گیا تو پھر کوئی تمہارا پشت پناہ نہ ہوگا۔