سورة الزمر - آیت 46

قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

آپ کہیں الٰہی تو ہی آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والا، حاضر وغائب کو جاننے والا ہے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٤٦۔ ١ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو تہجد کی نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے اللھم رب چبریل ومیکائیل واسرفیل فاطر السموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔