سورة الصافات - آیت 28

قَالُوا إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پیروی کرنے والے اپنے پیشواؤں سے کہیں گے تم ہمارے پاس سیدھے رخ سے آتے تھے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٨۔ ١ اس کا مطلب ہے کہ دین اور حق کے نام سے آتے تھے یعنی باور کراتے تھے کہ یہی اصل دین اور حق ہے اور بعض کے نزدیک مطلب ہے، ہر طرف سے آتے تھے جس طرح شیطان نے کہا میں ان کے آگے، پیچھے سے، ان کے دائیں بائیں سے ہر طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا (ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَیْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَاۗیِٕلِہِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ) 7۔ الاعراف :17)