سورة فاطر - آیت 41

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی انہیں تھامنے والا نہیں ہے، بے شک اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٤١۔ ١ یہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت وصنعت کا بیان ہے بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ان کے شرک اقتضاء ہے کہ آسمان و زمین اپنی حالت پر برقرار نہ رہیں بلکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں جیسے آیت تکاد السموات۔۔ مریم) کا مفہوم ہے۔ ٤١۔ ٢ یعنی یہ اللہ کے کمال قدرت کے ساتھ اس کی کمال مہربانی بھی ہے کہ وہ آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں اپنی جگہ سے ہلنے اور ڈولنے نہیں دیتا ہے ورنہ پلک جھپکتے میں دنیا کا نظام تباہ ہوجائے کیونکہ اگر وہ انہیں تھامے نہ رکھے اور انہیں اپنی جگہ سے پھیر دے تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان کو تھام لے۔ اللہ نے اپنے اس احسان اور نشانی کا تذکرہ دوسرے مقامات پر بھی فرمایا ہے۔ (وَیُمْسِکُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ۭ اِنَّ اللّٰہَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ) 22۔ الحج :65)۔ اسی نے آسمان کو زمین پر گرنے سے روکا ہوا ہے مگر جب اس کا حکم ہوگا "اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں"۔ ٤١۔ ٣ اتنی قدرتوں کے باوجود وہ حلیم ہے اپنے بندوں کو دیکھتا ہے کہ وہ کفر و شرک اور نافرمانی کر رہے ہیں پھر بھی وہ ان کی گرفت میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ڈھیل دیتا ہے اور غفور بھی ہے کوئی تائب ہو کر اس کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے توبہ واستغفار وندامت کا اظہار کرتا ہے وہ معاف فرما دیتا ہے۔