سورة فاطر - آیت 10

مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ۚ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ۚ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۖ وَمَكْرُ أُولَٰئِكَ هُوَ يَبُورُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جو عزت چاہتا ہے عزت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے پاکیزہ کلمات اور نیک عمل کو وہی اوپر اٹھاتا ہے جو لوگ جو بری چالیں چلتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٠۔ ١ یعنی جو چاہتا ہے کہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت ملے، تو وہ اللہ کی اطاعت کرے اس سے اسے یہ مقصود حاصل ہوجائے گا اس لیے کہ دنیا وآخرت کا مالک اللہ ہی ہے ساری عزتیں اسی کے پاس ہیں وہ جس کو عزت دے، وہی عزیز ہوگا جس کو وہ ذلیل کردے، اسے دنیا کی کوئی طاقت عزت نہیں دے سکتی۔ ١٠۔ ٢ اَ لْکَلِمُ، کَلِمَہ،ُ ایک جمع ہے، ستھرے کلمات سے مراد اللہ کی تسبیح و تحمید، تلاوت ہے، چڑھتے ہیں کا مطلب، قبول کرنا ہے۔ یا فرشتوں کا انہیں لے کر آسمانوں پر چڑھنا تاکہ اللہ انہیں جزا دے۔ ١٠۔ ٣ خفیہ طریقے سے کسی کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کو مکر کہتے ہیں کفر و شرک کا ارتکاب بھی مکر ہے اس طرح اللہ کے راستے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے نبی کے خلاف قتل وغیرہ کی جو سازشیں کفار مکہ کرتے تھے وہ بھی مکر ہے، ریاکاری بھی مکر ہے۔ ١٠۔ ٤ یعنی ان کا مکر بھی برباد ہوگا اور اس کا وبال انہی پر پڑے گا جو اس کا ارتکاب کرتے ہیں، جیسے فرمایا (وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیُٔ) 35۔ فاطر :43)