سورة آل عمران - آیت 54

وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تدبیر فرمائی اور اللہ تعالیٰ تمام تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٥٤۔ ١ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیرنگین تھا یہاں ان کا جو حکمران مقرر تھا وہ کافر تھا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف اس حکمران کے کان بھرے کہ یہ نعوذ باللہ بے باپ کے اور فسادی ہے وغیرہ وغیرہ حکمران نے ان کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی دینے کا فیصلہ کرلیا لیکن اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ ان کے ہمشکل ایک آدمی کو سولی دے دی (مکر) عربی زبان میں لطیف اور خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس معنی میں یہاں اللہ تعالیٰ (خیرُ الْماکِرِیْنَ) کہا گیا گویا یہ مکر (برا) بھی ہوسکتا ہے اگر غلط مقصد کے لئے ہو اور خیر (اچھا) بھی ہوسکتا ہے اگر اچھے مقصد کے لئے ہو۔