سورة الروم - آیت 29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

مگر یہ ظالم جہالت کی بنا پر اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب اس شخص کو کون راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو؟ ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٩۔ ١ یعنی اس حقیقت کا انھیں خیال ہی نہیں ہے کہ وہ علم سے بے بہرہ اور ضلالت کا شکار ہیں اور اسی بے علمی اور گمراہی کی وجہ سے وہ اپنی عقل کو کام میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اپنی نفسانی خواہشات اور آرائے فاسدہ کے پیروکار ہیں۔ ٢٩۔ ٢ کیونکہ اللہ کی طرف سے ہدایت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے اندر ہدایت کی طلب اور آرزو ہوتی ہے، جو اس طلب صادق سے محروم ہوتے ہیں، انھیں گمراہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ٢٩۔ ٣ یعنی ان گمراہوں کا کوئی مددگار نہیں جو انھیں ہدایت سے بہرہ ور کر دے یا ان سے عذاب پھیر دے۔