سورة العنكبوت - آیت 64

وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور یہ دنیا کی زندگی کھیل اور دل کے بہلاوے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اصل گھر تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ لوگ جان جائیں

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٦٤۔ ١ یعنی جس دنیا نے انھیں آخرت سے اندھا اور اس کے لیے توشہ جمع کرنے سے غافل رکھا ہے وہ ایک کھیل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، کافر دنیا کے کاروبار میں مشغول رہتا ہے، اس کے لیے شب وروز محنت کرتا ہے لیکن جب مرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے۔ جس طرح بچے سارا دن مٹی کے گھروندوں سے کھیلتے ہیں پھر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ سوائے تھکاوٹ کے انھیں کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ ٦٤۔ ٢ اس لئے ایسے عمل صالح کرنے چاہئیں جن سے آخرت کا یہ گھر سنور جائے۔ ٦٤۔ ٣ کیونکہ اگر وہ یہ بات جان لیتے تو آخرت سے بے پرواہ ہو کر دنیا میں مگن نہ ہوتے۔ اس لئے ان کا علاج علم ہے، علم شریعت۔