سورة القصص - آیت 62

وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور قیامت کے دن جب اللہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٦٢۔ ١ یعنی وہ بت یا اشخاص ہیں، جن کو تم دنیا میں میری الوہیت میں شریک گردانتے تھے، انھیں مدد کے لئے پکارتے تھے اور ان کے نام کی نذر نیاز دیتے تھے، آج کہاں ہیں؟ کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور تمہیں میرے عذاب سے چھڑا سکتے ہیں؟ یہ تقریع وتوبیخ کے طور پر اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا، ورنہ وہاں اللہ کے سامنے کس کو مجال دم زدنی ہوگی؟ یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام، (وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّتَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِکُمْ ۚ وَمَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَاۗءَکُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰۗؤُا ۭ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 6۔ الانعام :94) اور دیگر بہت سے مقامات پر بیان فرمایا ہے۔