سورة القصص - آیت 25

فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم وحیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔ موسیٰ کے پاس آئی اور کہنے لگی میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں۔ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے۔ اس کا اجر دیں موسیٰ جب اس کے پاس پہنچے اور اپنا قصہ سنایا تو اس نے کہا کسی قسم کا خوف نہ کر اب آپ ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہیں۔“ (٢٥)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٥۔ ١ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمالی اور دونوں میں سے ایک لڑکی انہیں بلانے آ گئی۔ لڑکی کی شرم و حیا کا قرآن نے بطور خاص ذکر کیا ہے کہ یہ عورت کا اصل زیور ہے اور مردوں کی طرح حیاء و حجاب سے بے نیازی اور بے باکی عورت کے لئے شرعا ناپسندیدہ ہے۔ ٢٥۔ ٢ بچیوں کا باپ کون تھا ؟ قرآن کریم نے وضاحت سے کسی کا نام نہیں لیا ہے۔ مفسرین کی اکثریت نے اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کو لیا ہے جو اہل مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ امام شوکانی نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ لیکن امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا زمانہ نبوت، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت پہلے کا ہے۔ اس لئے یہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا برادر زادہ یا کوئی اور قوم شعیب (علیہ السلام) کا شخص مراد ہے، واللہ اعلم۔ بہرحال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بچیوں کے ساتھ ہمدردی اور احسان کیا، وہ بچیوں نے جا کر بوڑھے باپ کو بتلایا، جس سے باپ کے دل میں بھی ہمدردی پیدا ہوئی کہ احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دیا جائے یا اس کی محنت کی اجرت ہی ادا کردی جائے۔ ٢٥۔ ٣ یعنی اپنے مصر کی سرگزشت اور فرعون کے ظلم و ستم کی تفصیل سنائی جس پر انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ فرعون کی حدود حکمرانی سے باہر ہے اس لئے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ نے ظالموں سے نجات عطا فرما دی ہے۔