سورة النمل - آیت 59

قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ ۗ آللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے نبی فرما دیں کہ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں اور ” اللہ“ کے ان بندوں پر سلام ہو جنہیں اس نے منتخب فرما لیا۔ اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں وہ اس کا شریک بنارہے ہیں۔“ (٥٩)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٥٩۔ ١ جن کو اللہ نے رسالت اور بندوں کی رہنمائی کے لئے چنا تاکہ لوگ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ ٥٩۔ ٢ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اللہ ہی کی عبادت بہتر ہے کیونکہ جب خالق رازق اور مالک یہی ہے تو عبادت کا مستحق کوئی دوسرا کیوں کر ہوسکتا ہے جو نہ کسی چیز کا خالق ہے نہ رازق اور مالک خیر اگرچہ تفضیل کا صیغہ ہے لیکن یہاں تفضیل کے معنی میں نہیں ہے مطلق بہتر کے معنی میں ہے اس لیے کہ معبودان باطلہ میں تو سرے سے کوئی خیر ہے ہی نہیں۔