سورة النمل - آیت 15

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ہم نے داؤد وسلیمان کو علم عطا کیا اور انہوں نے کہا کہ شکر ہے اللہ کا، جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی۔“ (١٥)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٥۔ ١ سورت کے شروع میں فرمایا گیا تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے سکھلایا جاتا ہے اس کی دلیل کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مختصرا قصہ بیان فرمایا اور اب دوسری دلیل حضرت داؤد (علیہ السلام) و سلیمان (علیہ السلام) کا یہ قصہ ہے انبیا علیہم السلام کے یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں علم سے مراد نبوت کے علم کے علاوہ وہ علم ہے جن سے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو بطور خاص نوازا گیا تھا جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو لوہے کی صنعت کا علم اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جانوروں کی بولیوں کا علم عطا کیا گیا تھا ان دونوں باپ بیٹوں کو اور بھی بہت کچھ عطا کیا گیا تھا لیکن یہاں صرف علم کا ذکر کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ علم اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔