سورة الشعراء - آیت 226

وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ایسی باتیں کہتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے۔“ (٢٢٦)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٢٦۔ ١ شاعروں کی اکثریت چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ اصول کی بجائے، ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق اظہار رائے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کے پیچھے لگنے والے بھی گمراہ ہیں، اسی قسم کے اشعار کے لئے حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ 'پیٹ کو لہو پیپ سے بھر جانا، جو اسے خراب کر دے، شعر سے بھر جانے سے بہتر ہے ' (ترمذی و مسلم وغیرہ)