سورة الشعراء - آیت 209

ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَالِمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ہم ظلم کرنے والے نہیں۔“ (٢٠٩)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٠٩۔ ١ یعنی ارسال رسل اور انزار کے بغیر اگر ہم کسی بستی کو ہلاک کردیتے تو یہ ظلم ہوتا، تاہم ہم نے ایسا ظلم نہیں کیا بلکہ عدل کے تقاضوں کے مطابق ہم نے پہلے ہر بستی میں رسول بھیجے، جنہوں نے اہل بستی کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور اس کے بعد جب انہوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی، تو ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ یہی مضمون بنی اسرائیل۔ ١٥ اور قصص۔ ٥٩ وغیرہ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔