سورة الشعراء - آیت 197

أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا ان لوگوں کے لیے کوئی نشانی نہیں ہے۔ کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں؟“ (١٩٧)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٩٧۔ ١ کیونکہ ان کتابوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اور قرآن کا ذکر موجود ہے۔ یہ کفار مکہ، مذہبی معاملات میں یہود کی طرح رجوع کرتے تھے۔ اس اعتبار سے فرمایا کہ کیا ان کا یہ جاننا اور بتلانا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، اللہ کے سچے رسول اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ پھر یہود کی اس بات کو مانتے ہوئے پیغمبر پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟