سورة الشعراء - آیت 17

أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ (١٧)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٧۔ ١ یعنی ایک بات یہ کہو کہ ہم تیرے پاس اپنی مرضی سے نہیں آئے ہیں بلکہ رب العالمین کے نمائندے اور اس کے رسول کی حیثیت سے آئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ تو نے (چار سو سال سے) بنی اسرائیل غلام بنا رکھا ہے، ان کو آزاد کر دے تاکہ میں انھیں شام کی سرزمین پر لے جاویں، جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔