سورة الفرقان - آیت 77

قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۖ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے نبی لوگوں سے فرما دیں کہ اگر تم رب کو نہ پکارو تو میرے رب کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے جب تم نے جھٹلادیا ہے عن قریب سزا پاؤ گے کہ جس سے جان چھڑانی محال ہوگی۔“ (٧٧)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٧۔ ١ دعا و التجا کا مطلب، اللہ کو پکارنا اور اس کی عبادت کرنا اور مطلب یہ ہے کہ تمہارا مقصد تخلیق اللہ کی عبادت ہے، اگر یہ نہ ہو تو اللہ کو تمہاری کوئی پرواہ نہ ہو۔ یعنی اللہ کے ہاں انسان کی قدر و قیمت، اس کے اللہ پر ایمان لانے اور اس کی عبادت کرنے کی وجہ سے ہے۔ ٧٧۔ ٢ اس میں کافروں سے خطاب ہے کہ تم نے اللہ کو جھٹلا دیا، سو اب اس کی سزا بھی لازماً تمہیں چکھنی ہے۔ چنانچہ دنیا میں یہ سزا بدر میں شکست کی صورت میں انھیں ملی اور آخرت میں جہنم کے دائمی عذاب سے بھی انھیں دو چار ہونا پڑے گا۔