سورة الفرقان - آیت 21

وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا ۗ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جو لگ ہمارے حضور پیش ہونے کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کیوں نہ فرشتے ہمارے سامنے نازل کیے گئے یا پھر ہم اپنے رب کو اپنے سامنے دیکھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اپنے آپ میں مغرورہیں اور سرکشی میں حد سے گزر چکے ہیں۔ (٢١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢١۔ ١ یعنی کسی انسان کو رسول بنا کر بھیجنے کی بجائے، کسی فرشتے کو بنا کر بھیجا جاتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ فرشتے بھی نازل ہوتے، جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور وہ اس بشر رسول کی تصدیق کرتے۔ ٢١۔ ٢ یعنی رب آ کر ہمیں کہتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا رسول ہے اور اس پر ایمان لانا تمہارے لئے ضروری ہے۔ ٢١۔ ٣ اسی استکبار اور سرکشی کا نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے مطالبے کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف ہیں اللہ تعالیٰ تو ایمان بالغیب کے ذریعے سے انسانوں کو آزماتا ہے اگر وہ فرشتوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے اتار دے یا آپ خود زمین پر نزول فرما لے تو اس کے بعد ان کی آزمائش کا پہلو ہی ختم ہوجائے اس لیے اللہ تعالیٰ ایسا کام کیونکر کرسکتا ہے جو اس کی حکمت تخلیق اور مشیت تکوینی کے خلاف ہے؟