سورة الفرقان - آیت 20

وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ ۗ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ ۗ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے نبی تم سے پہلے جو رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا سبب بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے۔“ (٢٠)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٠۔ ١ یعنی وہ انسان تھے اور غذا کے محتاج۔ ٢٠۔ ٢ یعنی رزق حلال کی فراہمی کے لئے کسب و تجارت بھی کرتے تھے۔ مطلب اس سے یہ ہے کہ یہ چیزیں منصب نبوت کے منافی نہیں، جس طرح کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ ٢٠۔ ٣ یعنی ہم نے انبیاء کو اور ان کے ذریعے سے ان پر ایمان لانے والوں کی بھی آزمائش کی، تاکہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہوجائے، جنہوں نے آزمائش میں صبر کا دامن پکڑے رکھ، وہ کامیاب اور دوسرے ناکام رہے؛ اسی لئے آگے فرمایا، کیا تم صبر کرو گے؟،