سورة النور - آیت 27

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے یمان والو! اپنے گھروں کے سوادوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو۔ جب تک کہ گھروالوں سے اجازت اور انہیں سلام کہہ لویہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم اسے یاد رکھو۔ (٢٧) ”

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٧۔ ١ گزشتہ آیات میں زنا اور قذف اور ان کی حدوں کا بیان گزرا، اب اللہ تعالیٰ گھروں میں داخل ہونے کے آداب بیان فرما رہا ہے تاکہ مرد و عورت کے درمیان اختلاط نہ ہو جو عام طور زنا یا قذف کا سبب بنتا ہے۔ اَسْتِیْنَاس کے معنی ہیں، معلوم کرنا، یعنی جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اندر کون ہے اور اس نے تمہیں اندر داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے، اس وقت تک داخل نہ ہو۔ آیت میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے کا ذکر پہلے اور سلام کرنے کا ذکر بعد میں ہے۔ لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے سلام کرتے اور پھر داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول بھی تھا کہ تین مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجازت طلب فرماتے اگر کوئی جواب نہیں آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹ آتے۔ اور یہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت مبارکہ تھی کہ اجازت طلبی کے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دروازے کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، تاکہ ایک دم سامنا نہ ہوجائے جس بے پردگی کا امکان رہتا ہے (ملاحظہ ہو صحیح بخاری) اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر جھانکنے سے بھی نہایت سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں (البخاری) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو بھی ناپسند فرمایا کہ جب اندر سے صاحب بیت پوچھے، کون ہے؟ تو اس کے جواب میں "میں""میں"کہا جاۓ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نام لے کر اپنا تعارف کرائے (صحیح بخاری) ٢٧۔ ٢ یعنی عمل کرو، مطلب یہ ہے کہ اجازت طلبی اور سلام کرنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہونا، دونوں کے لئے اچانک داخل ہونے سے بہتر ہے۔