سورة المؤمنون - آیت 20

وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِن طُورِ سَيْنَاءَ تَنبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْآكِلِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے درخت پیدا کیا جو طورسیناء سے تیل لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن کا کام دیتا ہے۔“ (٢٠)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٠۔ ١ اس سے زیتون کا درخت مراد ہے، جس کا روغن تیل کے طور پر اور پھل سالن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سالن کو صِبْغٍ،ُ رنگ کہا ہے کیونکہ روٹی، سالن میں ڈبو کر، گویا رنگی جاتی ہے۔ طُوْرِ سَیْنَآءَ (پہاڑ) اور اس کا قرب و جوار خاص طور پر اس کی عمدہ قسم کی پیداوار کا علاقہ ہے۔