سورة الحج - آیت 39

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں یقینا اللہ ان کی مدد کرنے والا ہے۔“ (٣٩)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣٩۔ ١ اکثر سلف کا قول ہے کہ اس آیت میں سب سے پہلے جہاد کا حکم دیا گیا، جس کے دو مقصد یہاں بیان کئے گئے ہیں۔ مظلومیت کا خاتمہ اور اعلائے کلمۃ اللہ۔ اس لئے کہ مظلومین کی مدد اور ان کی داد رسی نہ کی جائے تو پھر دنیا میں زور آور کمزوروں کو اور بے وسیلہ لوگوں کو جینے ہی نہ دیں جس سے زمین فساد سے بھر جائے۔ اور اگر باطل تو باطل کے غلبے سے دنیا کا امن و سکون اور اللہ کا نام لینے والوں کے لئے کوئی عبادت خانہ باقی نہ رہے (مذید تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ بقرہ، آیت ٢٥١ کا حاشیہ)۔