سورة الأنبياء - آیت 107

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے نبی ہم نے آپ کو دنیا والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔“ (١٠٧)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لے آئے گا اس نے گویا اس رحمت کو قبول کرلیا اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ نتیجتًا دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہوگا اور اور چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پورے جہان کے لیے ہے اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورے جہان کے لیے رحمت بن کر یعنی اپنی تعلیمات کے ذریعے سے دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے آئے ہیں بعض لوگوں نے اس اعتبار سے بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جہان والوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے یہ امت بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کردی گئی جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی رہیں امت محمدیہ (جو امت اجابت اور امت دعوت کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے) پر اس طرح کا کلی عذاب نہیں آئے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے لیے بد دعا نہ کرنا یہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحمت کا ایک حصہ تھا انی لم ابعث لعانا وانما بعثت رحمۃ (صحیح مسلم) اسی طرح غصے میں کسی مسلمان کو لعنت یا سب وشتم کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کا باعث قرار دینا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحمت کا حصہ ہے ( مسند احمد) اسی لیے ایک حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انما رحمۃ مھداۃ (صحیح الجامع الصغیر) میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں جو اللہ کی طرف سے اہل جہان کے لیے ایک ہدیہ ہے۔