سورة الأنبياء - آیت 75

وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور لوط کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا وہ صالح لوگوں میں سے تھے۔“ (٧٥)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٥۔ ١ حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زاد (بھتیجے) تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے اور ان کے ساتھ عراق سے ہجرت کرکے شام جانے والوں میں سے تھے۔ اللہ نے ان کو بھی علم و حکمت یعنی نبوت سے نوازا۔ یہ جس علاقے میں نبی بنا کر بھیجے گئے، اسے عمورہ اور سدوم کہا جاتا ہے۔ یہ فلسطین کے بحیرہ مردار سے متصل بجانب اردن ایک شاداب علاقہ تھا۔ جس کا بڑا حصہ اب بحیرہ مردار کا جزو ہے۔ ان کی قوم لواطت جیسے فعل شفیع، گزر گاہوں پر بیٹھ کر آنے جانے والوں پر آوازے کسنا اور انھیں تنگ کرنا روڑے ریزے پھینکنا وغیرہ میں ممتاز تھی، جسے اللہ نے یہاں خبائث (پلید کاموں) سے تعبیر فرمایا ہے۔ بالآخر حضرت لوط (علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں داخل کرکے یعنی انھیں اور ان کے پیرو کار کو بچا کر قوم کو تباہ کردیا گیا۔