سورة الأنبياء - آیت 45

قُلْ إِنَّمَا أُنذِرُكُم بِالْوَحْيِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ان سے فرمادو کہ میں تمہیں وحی کے ساتھ ڈراتا ہوں مگر بہرے آواز کو نہیں سنا کرتے جب انہیں خبردار کیا جائے۔ (٤٥)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٤٥۔ ١ یعنی قرآن سنا کر انھیں وعظ و نصیحت کر رہا ہوں اور یہی میری ذمہ داری ہے اور منصب ہے۔ لیکن جن لوگوں کے کانوں کو اللہ نے حق کے سننے سے بہرا کردیا، آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور دلوں پر مہر لگا دی، ان پر اس قرآن کا اور وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔