سورة الأنبياء - آیت 29

وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

وہ اس کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو ان میں سے کوئی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں بھی ایک الٰہ ہوں۔ تو اسے ہم جہنم کی سزا دیں گے ہمارے ہاں ظالموں کی یہی سزا ہے۔“ (٢٩)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٩۔ ١ یعنی ان فرشتوں میں سے بھی اگر کوئی اللہ ہونے کا دعویٰ کر دے تو ہم اسے بھی جہنم میں پھینک دیں گے۔ یہ شرطیہ کلام ہے، جس کا وقوع ضروری نہیں۔ مقصد، شرک کی تردید اور توحید کا اثبات ہے۔ جیسے (قُلْ اِنْ کَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ) 43۔ الزخرف :81) ' اگر بالفرض رحمٰن کی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں سے ہوں گا ' ( لَیِٕنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ) 39۔ الزمر :65)' اے پیغمبر! اگر تو بھی شرک کرے تو تیرے عمل برباد ہوجائیں گے ' یہ سب مشروط ہیں جن کا وقوع غیر ضروری ہے۔