سورة طه - آیت 108

يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ ۖ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اس دن سب لوگ منادی کی پکار پر چلے آئیں گے کوئی اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ رحمان کے آگے آوازیں دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ (١٠٨)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٠٨۔ ١ یعنی جس دن اونچے نیچے پہاڑ، وادیاں، فلک بوس عمارتیں، سب صاف ہوجائیں گی، سمندر اور دریا خشک ہوجائیں گے، اور ساری زمین صاف چٹیل میدان ہو جائی گی۔ پھر ایک آواز آئیگی، جس کے پیچھے سارے لوگ لگ جائیں گے یعنی جس طرف وہ بلائے گا، جائیں گے۔ ١٠٨۔ ٢ یعنی اس بلانے والے سے ادھر ادھر نہیں ہو نگے۔ ١٠٨۔ ٣ یعنی مکمل سناٹا ہوگا سوائے قدموں کی آہٹ اور کھسر پھسر کے کچھ سنائی نہیں دے گا۔