سورة طه - آیت 104

نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے۔ اس وقت ان میں سے سے پختہ یقین کے ساتھ کہنے والا کہے گا کہ تمہاری دنیا کی زندگی صرف ایک دن کی تھی۔“ (١٠٤)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٠٤۔ ١ یعنی سب سے زیادہ عاقل اور سمجھدار۔ یعنی دنیا کی زندگی انھیں چند دن بلکہ گھڑی دو گھڑی کی محسوس ہوگی۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَیَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَۃُ یُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ ۭ کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ) 30۔ الروم۔55) جس دن قیامت برپا ہوگی کافر قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ (دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے یہی مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلا سورۃ فاطر، ٣٧ سورۃ المؤمنون۔، ١١٢۔ ١١٤ سورۃ النازعات وغیرہ مطلب یہی ہے فانی زندگی کو پاقی رہنے والی زندگی پر ترجیح نہ دی جائے۔