سورة طه - آیت 99

كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ آتَيْنَاكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی اس طرح ہم گزرے ہوئے حالات کی خبریں آپ کو سناتے ہیں اور ہم نے اپنی طرف سے آپ کو ایک ” ذکر“ عطا کیا ہے۔ (٩٩)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٩٩۔ ١ یعنی جس طرح ہم نے فرعون و موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا، اسی طرح انبیاء کے حالات ہم آپ پر بیان کر رہے ہیں تاکہ آپ ان سے باخبر ہوں، اور اس میں عبرت کے پہلو ہوں، انھیں لوگوں کے سامنے نمایاں کریں تاکہ لوگ اس کی روشنی میں صحیح رویہ اختیار کریں۔ ٩٩۔ ٢ نصیحت (ذکر) سے مراد قرآن عظیم ہے۔ جس سے بندہ اپنے رب کو یاد کرتا، ہدایت اختیار کرتا اور نجات و سعادت کا راستہ اپناتا ہے۔