سورة طه - آیت 97

قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ ۖ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّن تُخْلَفَهُ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ إِلَٰهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” موسیٰ نے کہا اچھا تو جا اب زندگی بھر یہی کہتا رہے گا کہ مجھے ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لیے باز پرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور دیکھ اپنے اس خدا کو جس پر تو جم کر بیٹھا ہوا تھا اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے سمندر میں پھینک دیں گے۔“ (٩٧)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٩٧۔ ١ یعنی عمر بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھ سے دور رہو، مجھے نہ چھونا، اس لئے کہ اسے چھو تے ہی چھونے والا بھی اور یہ سامری بھی دونوں بخار میں مبتلا ہوجاتے۔ اس لئے جب کسی انسان کو دیکھتا تو فوراً چیخ اٹھتا کہا جاتا ہے کہ پھر یہ انسانوں کی بستی سے نکل کر جنگل میں چلا گیا، جہاں جانوروں کے ساتھ اس کی زندگی گزری اور یوں عبرت کا نمونہ بنا رہا، گویا لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو شخص جتنا زیادہ حیلہ و فن اور مکر و فریب اختیار کرے گا، دنیا اور آخرت میں اس کی سزا بھی اسی حساب سے شدید تر اور نہایت عبرت ناک ہوگی۔ ٩٧۔ ٢ یعنی آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہے جو ہر صورت بھگتنا پڑے گا۔ ٩٧۔ ٣ اس سے معلوم ہوا کہ شرک کے آثار ختم کرنا بلکہ ان کا نام ونشان تک مٹا ڈالنا چاہیے ان کی نسبت کتنی ہی مقدس ہستیوں کی طرف ہو، توہین نہیں، جیسا کہ اہل بدعت، قبر پرست اور تعزیہ پرست باور کراتے ہیں بلکہ یہ توحید کا منشا اور دینی غیرت کا تقاضا ہے جیسے اس واقعے میں اس اثرالرسول کو نہیں دیکھا گیا جس سے ظاہری طور پر روحانی برکات کا مشاہدہ بھی کیا گیا اس کے باوجود اس کی پروا نہیں کی گئی اس لیے کہ وہ شرک کا ذریعہ بن گیا تھا۔