سورة مريم - آیت 57

وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھالیا۔“ (٥٧)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٥٧۔ ١ حضرت ادریس علیہ السلام، کہتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے نبی تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے یا ان کے والد کے دادا تھے، انہوں نے ہی سب سے پہلے کپڑے سیئے، بلندی مکان سے مراد؟ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم رُفِعَ اِلَی السَّمَآء سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح انھیں بھی آسمان پر اٹھا لیا گیا لیکن قرآن کے الفاظ اس مفہوم کے لئے صاف نہیں ہیں اور کسی صحیح حدیث میں بھی یہ بیان نہیں ہوا۔ البتہ اسرائیلی روایات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے جو اس مفہوم کے اثبات کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد مرتبے کی وہ بلندی ہے جو نبوت سے سرفراز کر کے انھیں عطا کی گئی۔ واللہ اعلم