سورة مريم - آیت 26

فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا ۖ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پس تو کھا اور پانی پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ اگر کوئی آدمی تجھ سے بات کرنے کی کوشش کرے تو اس سے کہہ کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے اس لیے میں آج کسی سے بات نہیں کروں گی۔“ (٢٦)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٦۔ ١ یعنی کھجوریں کھا، چشمے کا پانی پی اور بچے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر۔ ٢٦۔ ٢ یہ کہنا بھی اشارے سے تھا، زبان سے نہیں، علاوہ ازیں ان کے ہاں روزے کا مطلب ہی کھانے اور بولنے سے پرہیز ہے۔