سورة مريم - آیت 25

وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

تو اس درخت کے تنے کو ہلا اوپر سے تازہ کھجوریں آگریں گی۔ (٢٥)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٥۔ ١ سَرِبّاَ چھوٹی نہر یا پانی کا چشمہ۔ یعنی بطور کرامت اور خلاف قانون قدرت، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے پاؤں تلے پینے کے لئے پانی کا اور کھانے کے لئے ایک سوکھے ہوئے درخت میں پکی ہوئے تازہ کھجوروں کا انتطام کردیا۔ آواز دینے والے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھے، جنہوں نے وادی کے نیچے سے آواز دی اور کہا جاتا ہے کہ سَرِیّ بمعنی سردار ہے اور اس سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور انہی نے حضرت مریم کو نیچے سے آواز دی تھی۔