سورة مريم - آیت 10

قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً ۚ قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

زکریا نے کہا پروردگار میرے لیے کوئی نشانی بنادے۔ فرمایا تیرے لیے یہ نشانی ہے کہ توتندرستی کے باوجود مسلسل تین دن لوگوں سے بات نہیں کرسکے گا۔ (١٠)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٠۔ ١ راتوں سے مراد، دن اور رات ہیں اور سَوِیاًّ کا مطلب ہے بالکل ٹھیک ٹھاک، تندرست، یعنی ایسی کوئی بیماری نہیں ہوگی جو تجھے بولنے سے روک دے۔ لیکن اس کے باوجود تیری زبان سے گفتگو نہ ہو سکے تو سمجھ لینا کہ خوشخبری کے دن قریب آ گئے ہیں۔