سورة الكهف - آیت 96

آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا سَاوَىٰ بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انفُخُوا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ، جب اس نے دونوں پہاڑوں کی درمیانی جگہ کو پُر کردیا۔ ” تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ جلاؤ حتٰی کہ جب یہ آ ہنی دیوار بالکل آگ کی طرح سرخ ہوگئی تو اس نے کہا لاؤ اب میں اس میں پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں۔ (٩٦)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٩٦۔ ١ یعنی دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان جو خلا تھا، اسے لوہے کی چھوٹی چھوٹی چادروں سے پر کردیا۔ ٩٦۔ ٢ پگھلا ہوا سیسہ، یا لوہا یا تانبا۔ یعنی لوہے کی چادروں کو خوب گرم کر کے ان پر پگھلا ہوا لوہا، تانبا یا سیسہ ڈالنے سے وہ پہاڑی درہ یا راستہ ایسا مضبوط ہوگیا کہ اسے عبور کر کے یا توڑ کر یاجوج ماجوج کا ادھر دوسری طرف انسانی آبادیوں میں آنا ناممکن ہوگیا۔