سورة الكهف - آیت 16

وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِهِ وَيُهَيِّئْ لَكُم مِّنْ أَمْرِكُم مِّرْفَقًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور جب تم ان سے اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں سب سے الگ ہوچکے تو غار میں جا کر پناہ لے لو کہ تمہارا رب اپنی کچھ رحمت تمہارے لیے کھول دے اور تمہارے لیے تمہارے کام میں کوئی آسانی مہیا کر دے۔“ (١٦)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٦۔ ١ یعنی جب تم نے اپنی قوم کے معبودوں سے کنارہ کشی کرلی ہے، تو اب جسمانی طور پر بھی ان سے علیحدگی اختیار کرلو۔ یہ اصحاب کہف نے آپس میں کہا۔ چنانچہ اس کے بعد وہ ایک غار میں جا چھپے، جب ان کے غائب ہونے کی خبر مشہور ہوئی تو تلاش کیا گیا، لیکن وہ اسی طرح ناکام رہے، جس طرح نبی کی تلاش میں کفار مکہ غار ثور تک پہنچ جانے کے باوجود، جس میں آپ حضرت ابو بکر کے ساتھ موجود تھے، ناکام رہے تھے۔