سورة الكهف - آیت 14

وَرَبَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَٰهًا ۖ لَّقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور ان کے دلوں کو مضبوط کردیا جب وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سواہر گز کسی معبود کو نہیں پکاریں گے، یقیناً ہم اس وقت زیادتی کی بات کہیں گے۔“ (١٤) ”

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- یعنی ہجرت کرنے کی وجہ سے اپنے خویش واقارب کی جدائی اور عیش وراحت کی زندگی سے محرومی کا جو صدمہ انہیں اٹھانا پڑا، ہم نے ان کے دل کو مضبوط کر دیا تاکہ وہ صدمات کو برداشت کرلیں۔ نیز حق گوئی کا فریضہ بھی جرأت اور حوصلے سے ادا کر سکیں۔ 2- اس قیام سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک وہ طلبی ہے، جو بادشاہ کے دربار میں ان کی ہوئی اور بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر انہوں نے توحید کا یہ وعظ بیان کیا، بعض کہتے ہیں کہ شہر سے باہر آپس میں ہی کھڑے، ایک دوسرے کو توحید کی بات سنائی، جو فرداً فرداً اللہ کی طرف سے ان کے دلوں میں ڈالی گئی اور یوں اہل توحید باہم اکٹھے ہوگئے۔ 3- شَطَطًا کے معنی جھوٹ کے یا حد سے تجاوز کرنے کے ہیں۔