سورة الكهف - آیت 12

ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَىٰ لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پھر ہم نے انہیں اٹھایا، تاکہ معلوم کریں دونوں گروہوں میں سے کس نے اچھی طرح مدت یاد رکھی جو وہ ٹھہرے تھے۔“ (١٢)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٢۔ ١ ان دو گروہوں سے مراد اختلاف کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ یا تو اسی دور کے لوگ تھے جن کے درمیان ان کی بابت اختلاف ہوا، یا عہد رسالت کے مومن و کافر مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصحاب کہف ہی ہیں ان کے دو گروہ بن گئے تھے۔ ایک کہتا تھا ہم اتنا عرصہ سوئے رہے، دوسرا، اس کی نفی کرتا اور فریق اول سے کم و بیش مدت بتلاتا۔