سورة الإسراء - آیت 81

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور فرما دیں حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔“ (٨١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٨١۔ ١ حدیث میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں تین سو ساٹھ بت تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ چھڑی کی نوک سے ان بتوں کو مارتے جاتے اور (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ۭ) 17۔ الاسراء :81)۔ اور (قُلْ جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا یُبْدِیُٔ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ) 34۔ سبأء :49) پڑھتے جاتے (صحیح بخاری)