سورة النحل - آیت 38

وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَن يَمُوتُ ۚ بَلَىٰ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں اٹھائیں کہ جو مر گیا اللہ اسے نہیں اٹھائے گا۔ کیوں نہیں ! اللہ کا سچاوعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ (٣٨) ”

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣٨۔ ١ کیونکہ مٹی میں مل جانے کے بعد ان کا دوبارہ جی اٹھنا، انھیں مشکل اور ناممکن نظر آتا تھا۔ اسی لئے رسول جب انھیں بعث بعد الموت کی بابت کہتا تو اسے جھٹلاتے ہیں، اس کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ اس کے برعکس یعنی دوبارہ زندہ نہ ہونے پر قسمیں کھاتے ہیں، قسمیں بھی بڑی تاکید اور یقین کے ساتھ۔ ٣٨۔ ٢ اس جہالت اور بے علمی کی وجہ سے رسولوں کی تکذیب و مخالفت کرتے ہوئے دریاے کفر میں ڈوب جاتے ہیں۔