سورة النحل - آیت 2

يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” وہ اپنے حکم سے وحی کے ساتھ فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ لوگوں کو متنبہ کرو کہ بے شک میرے سوا کوئی معبود نہیں لہذا مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔“ (٢)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢۔ ١ رُوْح سے مراد وحی ہے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ہے۔ (وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ) (42۔ الشوری :52) ' اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے وحی کی، اس سے پہلے آپ کو علم نہیں تھا کہ کتاب کیا ہے، اور ایمان کیا ' ٢۔ ٢ مراد انبیاء علیہم السلام ہیں جن پر وحی ٰ نازل ہوتی ہے۔ جس طرح اللہ نے فرمایا (اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ) 6۔ الأنعام :124) ' اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے اور وہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے وحی ڈالتا یعنی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ ملاقات والے (قیامت کے) دن سے لوگوں کو ڈرائے ـ'۔