سورة الرعد - آیت 34

لَّهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَقُّ ۖ وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ان کے لیے عذاب دنیا کی زندگی میں ہے اور یقیناً آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور انہیں اللہ سے کوئی بچانے والانہیں۔“ (٣٤)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣٤۔ ١ اس سے مراد قتل اور اسیری ہے جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں ان کافروں کے حصے آتی ہے۔ ٣٤۔ ٢ جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی لعنت ملامت کرنے والے جوڑے سے فرمایا تھا '(ان عذاب الدنیا اھون من عذاب الاخرۃ) صحیح مسلم دنیا کا عذاب، آخرت سے بہت ہلکا ہے ' علاوہ ازیں دنیا کا عذاب (جیسا کچھ اور جتنا کچھ بھی ہو) عارضی اور فانی ہے اور آخرت کا عذاب دائمی ہے، اسے زوال و فنا نہیں، مذید برآں جہنم کی آگ، دنیا کی آگ کی نسبت ٦٩ گنا تیز ہے، اور اس طرح دوسری چیزیں ہیں۔ اس لئے عذاب کے سخت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔