سورة یوسف - آیت 78

قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ ۖ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انہوں نے کہا اے عزیز! بے شک اس کا باپ بہت بوڑھا ہے آپ ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ رکھ لیں بے شک ہم تجھے احسان کرنے والوں میں سے دیکھتے ہیں۔“ (٧٨)’

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٨۔ ١ حضرت یوسف کو عزیز مصر اس لئے کہا کہ اس وقت اصل اختیارات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہی پاس تھے، بادشاہ صرف برائے نام فرمانروائے مصر تھا۔ ٧٨۔ ٢ باپ تو یقینا بوڑھے ہی تھے، لیکن یہاں ان کا اصل مقصد بنیامین کو چھڑانا تھا۔ ان کے ذہن میں وہی یوسف (علیہ السلام) والی بات تھی کہ کہیں ہمیں پھر دوبارہ بنیامین کے بغیر باپ کے پاس جانا پڑے اور باپ ہم سے کہیں کہ تم نے میرے بنیامین کو بھی یوسف (علیہ السلام) کی طرح کہیں گم کردیا۔ اس لئے یوسف (علیہ السلام) کے احسانات کے حوالے سے یہ بات کی کہ شاید وہ یہ احسان بھی کردیں کہ بنیامین کو چھوڑ دیں اور اس کی جگہ کسی اور بھائی کو رکھ لیں۔